المعارج 70:44 خاشعة ابصارهم ترهقهم ذلة ذالك اليوم الذي كانوا يوعدون ٤٤
خَاشِعَةً
اَبْصَارُهُمْ
تَرْهَقُهُمْ
ذِلَّةٌ ؕ
ذٰلِكَ
الْیَوْمُ
الَّذِیْ
كَانُوْا
یُوْعَدُوْنَ
۟۠
ان کی نگاہیں زمین میں گڑی ہوئی ہوں گی ذلت ان پر چھائی ہوئی ہوگی۔ یہ ہے وہ دن جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
دنیا میں ڈھیل ٭٭…
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! انہیں ان کے جھٹلانے، کفر کرنے، سرکشی میں بڑھنے ہی میں چھوڑ دو، جس کا وبال ان پر اس دن آئے گا جس کا ان سے وعدہ ہو چکا ہے، جس دن اللہ تعالیٰ انہیں بلائے گا اور یہ میدان محشر کی طرف جہاں انہیں حساب کے لیے کھڑا کیا جائے گا اس طرح لپکتے ہوئے جائیں گے جس طرح دنیا می
دنیا میں ڈھیل ٭٭…
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! انہیں ان کے جھٹلانے، کفر کرنے، سرکشی میں بڑھنے ہی میں چھوڑ دو، جس کا وبال ان پر اس دن آئے گا جس کا ان سے وعدہ