وَتَحْسَبُهُمْ
اَیْقَاظًا
وَّهُمْ
رُقُوْدٌ ۖۗ
وَّنُقَلِّبُهُمْ
ذَاتَ
الْیَمِیْنِ
وَذَاتَ
الشِّمَالِ ۖۗ
وَكَلْبُهُمْ
بَاسِطٌ
ذِرَاعَیْهِ
بِالْوَصِیْدِ ؕ
لَوِ
اطَّلَعْتَ
عَلَیْهِمْ
لَوَلَّیْتَ
مِنْهُمْ
فِرَارًا
وَّلَمُلِئْتَ
مِنْهُمْ
رُعْبًا
۟
Tum unhein dekh kar yeh samajhte ke woh jaag rahey hain, halaanke woh soo rahey thay. Hum unhein dayein bayein karwat dilwate rehte thay aur unka kutta ghaar ke dahane [kinare] (entrance) par haath phailaye baitha tha. Agar tum kahin jhaank kar unhein dekhte to ultey paon bhaag khade hotey aur tumpar unke nazare se dehshat baith jati
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ایک آنکھ بند ایک کھلی ٭٭…
یہ سو رہے ہیں لیکن دیکھنے والا انہیں بیدار سمجھتا ہے کیونکہ ان کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں۔ مذکور ہے کہ بھیڑیا جب سوتا ہے تو ایک آنکھ بند رکھتا ہے، ایک کھلی ہوتی ہے۔ پھر اسے بند کر کے اسے کھول دیتا ہے، چنانچہ کسی شاعر نے کہا ہے۔ «ینام باحدی مقلتیہ ویتقی» «باخری الرزایا فہو یقط
ایک آنکھ بند ایک کھلی ٭٭…
یہ سو رہے ہیں لیکن دیکھنے والا انہیں بیدار سمجھتا ہے کیونکہ ان کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں۔ مذکور ہے کہ بھیڑیا جب سوتا ہے تو ایک آ