الكهف 18:14 وربطنا على قلوبهم اذ قاموا فقالوا ربنا رب السماوات والارض لن ندعو من دونه الاها لقد قلنا اذا شططا ١٤
وَّرَبَطْنَا
عَلٰی
قُلُوْبِهِمْ
اِذْ
قَامُوْا
فَقَالُوْا
رَبُّنَا
رَبُّ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ
لَنْ
نَّدْعُوَاۡ
مِنْ
دُوْنِهٖۤ
اِلٰهًا
لَّقَدْ
قُلْنَاۤ
اِذًا
شَطَطًا
۟
اور ہم نے مضبوط کردیا ان کے دلوں کو جب وہ (بادشاہ کے سامنے) کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ہمارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم ہرگز نہیں پکاریں گے اس کے سوا کسی اور کو معبود (اگر ایسا ہوا) تب تو ہم بہت غلط بات کہیں گے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اصحاب کہف کا قصہ ٭٭…
یہاں سے تفصیل کے ساتھ اصحاب کہف کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ یہ چند نوجوان تھے جو دین حق کی طرف مائل ہوئے اور ہدایت پر آ گئے۔ قریش میں بھی یہی ہوا تھا کہ جوانوں نے تو حق کی آواز پر لبیک کہی تھی لیکن بجز چند کے اور بوڑھے لوگ اسلام کی طرف جرات سے مائل نہ ہوئے۔ کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض کے
اصحاب کہف کا قصہ ٭٭…
یہاں سے تفصیل کے ساتھ اصحاب کہف کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ یہ چند نوجوان تھے جو دین حق کی طرف مائل ہوئے اور ہدایت پر آ گئے۔ قریش میں بھ