قُلْ
اِنَّمَاۤ
اَنَا
بَشَرٌ
مِّثْلُكُمْ
یُوْحٰۤی
اِلَیَّ
اَنَّمَاۤ
اِلٰهُكُمْ
اِلٰهٌ
وَّاحِدٌ ۚ
فَمَنْ
كَانَ
یَرْجُوْا
لِقَآءَ
رَبِّهٖ
فَلْیَعْمَلْ
عَمَلًا
صَالِحًا
وَّلَا
یُشْرِكْ
بِعِبَادَةِ
رَبِّهٖۤ
اَحَدًا
۟۠
کہو کہ میں تمھاری ہی طرح ایک آدمی ہوں مجھ پر وحی آتی ہے کہ تمھارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے پس جس کو اپنے رب سے ملنے کی امید ہو، اس کو چاہيے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭…
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ سب سے آخری آیت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری۔ حکم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے فرمائیں کہ میں تم جیسا ہی ایک انسان ہوں، تم بھی انسان ہو، اگر مجھے جھوٹا جانتے ہو تو لاؤ اس قرآن جیسا
سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭…
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ سب سے آخری آیت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری۔