الإسراء 17:76 وان كادوا ليستفزونك من الارض ليخرجوك منها واذا لا يلبثون خلافك الا قليلا ٧٦
وَاِنْ
كَادُوْا
لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ
مِنَ
الْاَرْضِ
لِیُخْرِجُوْكَ
مِنْهَا
وَاِذًا
لَّا
یَلْبَثُوْنَ
خِلٰفَكَ
اِلَّا
قَلِیْلًا
۟
اور یہ لوگ اس سرزمین سے تمھارے قدم اکھاڑنے لگے تھے تاکہ تم کو اس سے نکال دیں اور اگر ایسا ہوتا تو تمھارے بعد یہ بھی بہت کم ٹھہرنے پاتے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
وطنی عصبیت اور یہودی ٭٭…
کہتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ آپ کو ملک شام چلا جانا چاہیئے وہی نبیوں کا وطن ہے اس شہر مدینہ کو چھوڑ دینا چاہیئے اس پر یہ آیت اتری۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے اس لیے کہ یہ آیت مکی ہے اور مدینے میں آپ کی رہائش اس کے بعد ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کہ تبوک کے
وطنی عصبیت اور یہودی ٭٭…
کہتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ آپ کو ملک شام چلا جانا چاہیئے وہی نبیوں کا وطن ہے اس شہر مدی