الإسراء 17:5 فاذا جاء وعد اولاهما بعثنا عليكم عبادا لنا اولي باس شديد فجاسوا خلال الديار وكان وعدا مفعولا ٥
فَاِذَا
جَآءَ
وَعْدُ
اُوْلٰىهُمَا
بَعَثْنَا
عَلَیْكُمْ
عِبَادًا
لَّنَاۤ
اُولِیْ
بَاْسٍ
شَدِیْدٍ
فَجَاسُوْا
خِلٰلَ
الدِّیَارِ
وَكَانَ
وَعْدًا
مَّفْعُوْلًا
۟
Aakhir e kaar jab un mein se pehli sarkashi ka mauqa pesh aaya, to aey bani Israel, humne tumhare muqable par apne aise banday uthaye jo nihayat zoarawar thay aur woh tumhare mulk mein ghus kar har taraf phayl gaye. Yeh ek wada tha jisey poora hokar hi rehna tha
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
پیشین گوئی ٭٭…
جو کتاب بنی اسرائیل پر اتری تھی اس میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی سے خبر دے دی تھی کہ وہ زمین پر دو مرتبہ سرکشی کریں گے اور سخت فساد برپا کریں گے پس یہاں پر «قضینا» کے معنی مقرر کر دینا اور پہلے ہی سے خبر دے دینا کے ہیں۔ جیسے آیت «وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَٰلِكَ الْأَمْرَ أَنَّ دَا
پیشین گوئی ٭٭…
جو کتاب بنی اسرائیل پر اتری تھی اس میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی سے خبر دے دی تھی کہ وہ زمین پر دو مرتبہ سرکشی کریں گے اور سخت فساد