وَّجَعَلْنَا
عَلٰی
قُلُوْبِهِمْ
اَكِنَّةً
اَنْ
یَّفْقَهُوْهُ
وَفِیْۤ
اٰذَانِهِمْ
وَقْرًا ؕ
وَاِذَا
ذَكَرْتَ
رَبَّكَ
فِی
الْقُرْاٰنِ
وَحْدَهٗ
وَلَّوْا
عَلٰۤی
اَدْبَارِهِمْ
نُفُوْرًا
۟
اور ہم ان کے دلوں پر پردہ رکھ دیتے ہیں کہ وہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردیتے ہیں اور جب تم قرآن میں تنہا اپنے رب کا ذکرکرتے ہو تو وہ نفرت کے ساتھ پیٹھ پھیرلیتے ہیں
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
کفار کا ایک نفسیاتی تجزیہ ٭٭…
فرماتا ہے کہ قرآن کی تلاوت کے وقت ان کے دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں، کوئی اثر ان کے دلوں تک نہیں پہنچتا۔ وہ حجاب انہیں چھپا لیتا ہے۔ یہاں «مَّسْتُورً»، «ساتِر» کے معنی میں ہے جیسے «میمون» اور «مشئوم» معنی میں یا «من» اور «شائم» کے ہیں۔ وہ پردے گو بظاہر نظر نہ آئیں
کفار کا ایک نفسیاتی تجزیہ ٭٭…
فرماتا ہے کہ قرآن کی تلاوت کے وقت ان کے دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں، کوئی اثر ان کے دلوں تک نہیں پہنچتا۔ وہ حجاب انہیں چھپا لی