قُلِ
ادْعُوا
اللّٰهَ
اَوِ
ادْعُوا
الرَّحْمٰنَ ؕ
اَیًّا
مَّا
تَدْعُوْا
فَلَهُ
الْاَسْمَآءُ
الْحُسْنٰی ۚ
وَلَا
تَجْهَرْ
بِصَلَاتِكَ
وَلَا
تُخَافِتْ
بِهَا
وَابْتَغِ
بَیْنَ
ذٰلِكَ
سَبِیْلًا
۟
کہو کہ خواہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو، اس کے ليے سب اچھے نام ہیں اور تم اپنی نماز نہ بہت پکار کر پڑھو اور نہ بالکل چپکے چپکے پڑھو اور دونوں کے درمیان کا طریقہ اختیار کرو
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
رحمن یا رحیم ؟ ٭٭…
کفار اللہ کی رحمت کی صفت کے منکر تھے، اس کا نام رحمن نہیں سمجھتے تھے تو جناب باری تعالیٰ اپنے نفس کے لیے اس نام کو ثابت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہی نہیں کہ اللہ کا نام اللہ ہو رحمن ہو یا رحیم اور بس، ان کے سوا بھی بہت سے بہترین اور احسن نام اس کے ہیں۔ جس پاک نام سے چاہو اس سے دعائی
رحمن یا رحیم ؟ ٭٭…
کفار اللہ کی رحمت کی صفت کے منکر تھے، اس کا نام رحمن نہیں سمجھتے تھے تو جناب باری تعالیٰ اپنے نفس کے لیے اس نام کو ثابت کرتا ہے اور ف