وَاِنْ
طَآىِٕفَتٰنِ
مِنَ
الْمُؤْمِنِیْنَ
اقْتَتَلُوْا
فَاَصْلِحُوْا
بَیْنَهُمَا ۚ
فَاِنْ
بَغَتْ
اِحْدٰىهُمَا
عَلَی
الْاُخْرٰی
فَقَاتِلُوا
الَّتِیْ
تَبْغِیْ
حَتّٰی
تَفِیْٓءَ
اِلٰۤی
اَمْرِ
اللّٰهِ ۚ
فَاِنْ
فَآءَتْ
فَاَصْلِحُوْا
بَیْنَهُمَا
بِالْعَدْلِ
وَاَقْسِطُوْا ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
یُحِبُّ
الْمُقْسِطِیْنَ
۟
اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑجائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ پھراگر ان میں کا ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے،یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئےپھر اگر وہ لوٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کراؤ اور انصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کوپسند کرتا ہے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
دو متحارب مسلمان جماعتوں میں صلح کرانا ہر مسلمان کا فرض ہے ٭٭…
یہاں حکم ہو رہا ہے کہ اگر مسلمانوں کی کوئی دو جماعتیں لڑنے لگ جائیں تو دوسرے مسلمانوں کو چاہیئے کہ ان میں صلح کرا دیں۔ آپس میں لڑنے والی جماعتوں کو مومن کہنا اس سے امام بخاری رحمہ اللہ نے استدلال کیا ہے کہ نافرمانی گو کتنی ہی بڑی ہو وہ انس
دو متحارب مسلمان جماعتوں میں صلح کرانا ہر مسلمان کا فرض ہے ٭٭…
یہاں حکم ہو رہا ہے کہ اگر مسلمانوں کی کوئی دو جماعتیں لڑنے لگ جائیں تو دوسرے مسلمانوں کو