الحجرات 49:12 يا ايها الذين امنوا اجتنبوا كثيرا من الظن ان بعض الظن اثم ولا تجسسوا ولا يغتب بعضكم بعضا ايحب احدكم ان ياكل لحم اخيه ميتا فكرهتموه واتقوا الله ان الله تواب رحيم ١٢
صفحہ 517 · پارہ 26
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوا
اجْتَنِبُوْا
كَثِیْرًا
مِّنَ
الظَّنِّ ؗ
اِنَّ
بَعْضَ
الظَّنِّ
اِثْمٌ
وَّلَا
تَجَسَّسُوْا
وَلَا
یَغْتَبْ
بَّعْضُكُمْ
بَعْضًا ؕ
اَیُحِبُّ
اَحَدُكُمْ
اَنْ
یَّاْكُلَ
لَحْمَ
اَخِیْهِ
مَیْتًا
فَكَرِهْتُمُوْهُ ؕ
وَاتَّقُوا
اللّٰهَ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
تَوَّابٌ
رَّحِیْمٌ
۟
اے ایمان والو، بہت سے گمانوں سے بچو، کیوں کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور ٹوہ میں نہ لگو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرےکیا تم میں سے کوئی اس بات کوپسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کاگوشت کھائے، اس کوتم خود ناگوار سمجھتے ہواور اللہ سے ڈروبے شک اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مذاق اور عیب گیری کی ممانعت ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو بدگمانی کرنے، تہمت رکھنے اپنوں اور غیروں کو خوفزدہ کرنے، خواہ مخواہ کی دہشت دل میں رکھ لینے سے روکتا ہے اور فرماتا ہے کہ بسا اوقات اکثر اس قسم کے گمان بالکل گناہ ہوتے ہیں پس تمہیں اس میں پوری احتیاط چاہیئے۔
سیدنا امیر المؤمنین عمر بن خطاب
مذاق اور عیب گیری کی ممانعت ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو بدگمانی کرنے، تہمت رکھنے اپنوں اور غیروں کو خوفزدہ کرنے، خواہ مخواہ کی دہشت دل میں رکھ لی