وَلَا
یَزَالُ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
فِیْ
مِرْیَةٍ
مِّنْهُ
حَتّٰی
تَاْتِیَهُمُ
السَّاعَةُ
بَغْتَةً
اَوْ
یَاْتِیَهُمْ
عَذَابُ
یَوْمٍ
عَقِیْمٍ
۟
اور انکار کرنے والے لوگ ہمیشہ اس کی طرف سے شک میں پڑے رہیں گے، یہاں تک کہ اچانک ان پر قیامت آجائے، یا ایک منحوس دن کا عذاب آجائے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
کافروں کے دل سے شک و شبہ نہیں جائے گا ٭٭…
یعنی کافروں کو جو شک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا۔ شیطان یہ غلط گمان قیامت تک ان کے دلوں سے نہ نکلنے دے گا۔ قیامت اور اس کے عذاب ان کے پاس ناگہاں آ جائیں گے۔ اس وقت یہ محض بے شعور ہوں گے جو مہلت انہیں مل رہی ہے اس سے یہ مغر
کافروں کے دل سے شک و شبہ نہیں جائے گا ٭٭…
یعنی کافروں کو جو شک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا۔ شیطان یہ غلط گمان قیام