الحج 22:55 ولا يزال الذين كفروا في مرية منه حتى تاتيهم الساعة بغتة او ياتيهم عذاب يوم عقيم ٥٥
وَلَا
یَزَالُ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
فِیْ
مِرْیَةٍ
مِّنْهُ
حَتّٰی
تَاْتِیَهُمُ
السَّاعَةُ
بَغْتَةً
اَوْ
یَاْتِیَهُمْ
عَذَابُ
یَوْمٍ
عَقِیْمٍ
۟
اور کافر تو اس بارے میں ہمیشہ شک و شبہ میں ہی رہیں گے یہاں تک کہ یا تو ان پر قیامت اچانک آن دھمکے یا ایک بانجھ دن کا عذاب ان پر مسلط ہوجائے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کافروں کے دل سے شک و شبہ نہیں جائے گا ٭٭…
یعنی کافروں کو جو شک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا۔ شیطان یہ غلط گمان قیامت تک ان کے دلوں سے نہ نکلنے دے گا۔ قیامت اور اس کے عذاب ان کے پاس ناگہاں آ جائیں گے۔ اس وقت یہ محض بے شعور ہوں گے جو مہلت انہیں مل رہی ہے اس سے یہ مغر
کافروں کے دل سے شک و شبہ نہیں جائے گا ٭٭…
یعنی کافروں کو جو شک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا۔ شیطان یہ غلط گمان قیام