ذٰلِكَ ۗ
وَمَنْ
یُّعَظِّمْ
حُرُمٰتِ
اللّٰهِ
فَهُوَ
خَیْرٌ
لَّهٗ
عِنْدَ
رَبِّهٖ ؕ
وَاُحِلَّتْ
لَكُمُ
الْاَنْعَامُ
اِلَّا
مَا
یُتْلٰی
عَلَیْكُمْ
فَاجْتَنِبُوا
الرِّجْسَ
مِنَ
الْاَوْثَانِ
وَاجْتَنِبُوْا
قَوْلَ
الزُّوْرِ
۟ۙ
یہ سن چکے ! اور جو کوئی تعظیم کرے اللہ کی حرمتوں کی تو وہ اس کے لیے بہتر ہے اس کے رب کے نزدیک اور حلال کردیے گئے تمہارے لیے تمام چو پائے سوائے اس کے جو تمہیں پڑھ کر سنا دیا گیا ہے تو تم بچوبتوں کی گندگی سے اور بچو جھوٹ بات سے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بت پرستی کی گندگی سے دور رہو ٭٭…
فرماتا ہے یہ تو تھے احکام حج اور ان پر جو جزا ملتی ہے اس کا بیان۔ اب اور سنو جو شخص حرمات الٰہی کی عزت کرے یعنی گناہوں سے اور حرام کاموں سے بچے، ان کے کرنے سے اپنے آپ کو روکے اور ان سے بھاگا رہے اس کے لیے اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ جس طرح نیکیوں کے کرنے پر اجر ہے اسی طرح
بت پرستی کی گندگی سے دور رہو ٭٭…
فرماتا ہے یہ تو تھے احکام حج اور ان پر جو جزا ملتی ہے اس کا بیان۔ اب اور سنو جو شخص حرمات الٰہی کی عزت کرے یعنی گناہوں