اِذْ
جَعَلَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
فِیْ
قُلُوْبِهِمُ
الْحَمِیَّةَ
حَمِیَّةَ
الْجَاهِلِیَّةِ
فَاَنْزَلَ
اللّٰهُ
سَكِیْنَتَهٗ
عَلٰی
رَسُوْلِهٖ
وَعَلَی
الْمُؤْمِنِیْنَ
وَاَلْزَمَهُمْ
كَلِمَةَ
التَّقْوٰی
وَكَانُوْۤا
اَحَقَّ
بِهَا
وَاَهْلَهَا ؕ
وَكَانَ
اللّٰهُ
بِكُلِّ
شَیْءٍ
عَلِیْمًا
۟۠
(یہی وجہ ہے کہ) جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں جاہلانہ حمیّت بٹھالی 1تو اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی2 اور مومنوں کو تقوٰی کی بات کا پابند رکھا کہ وہی اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے۔ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
پھر فرماتا ہے جبکہ یہ کافر اپنے دلوں میں غیرت و حمیت جاہلیت کو جما چکے تھے صلح نامہ میں آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھنے سے انکار کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ لفظ رسول اللہ لکھوانے سے انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے اس وقت اپنے نبی اور مومنوں کے دل کھول د
باب…
پھر فرماتا ہے جبکہ یہ کافر اپنے دلوں میں غیرت و حمیت جاہلیت کو جما چکے تھے صلح نامہ میں آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھنے سے ا