اِنَّ
الَّذِیْنَ
یُبَایِعُوْنَكَ
اِنَّمَا
یُبَایِعُوْنَ
اللّٰهَ ؕ
یَدُ
اللّٰهِ
فَوْقَ
اَیْدِیْهِمْ ۚ
فَمَنْ
نَّكَثَ
فَاِنَّمَا
یَنْكُثُ
عَلٰی
نَفْسِهٖ ۚ
وَمَنْ
اَوْفٰی
بِمَا
عٰهَدَ
عَلَیْهُ
اللّٰهَ
فَسَیُؤْتِیْهِ
اَجْرًا
عَظِیْمًا
۟۠
جولوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کرتے ہیں اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے پھر جو شخص اس کوتوڑے گا، اس کے توڑنے کاوبال اسی پر پڑے گا اورجو شخص اس عہد کو پورا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیاہے تو اللہ اس کو بڑا اجر عطافرمائے گا
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
پھر فرماتا ہے جو بیعت کے بعد عہد شکنی کرے اس کا وبال خود اسی پر ہو گا، اللہ کا وہ کچھ نہ بگاڑے گا اور جو اپنی بیعت کو نبھا جائے وہ بڑا ثواب پائے گا یہاں جس بیعت کا ذکر ہے وہ بیعت الرضوان ہے جو ایک ببول کے درخت تلے حدیبیہ کے میدان میں ہوئی تھی اس دن بیعت کرنے والے صحابہ کی تعداد تیرہ سو، چودہ سو ی
باب…
پھر فرماتا ہے جو بیعت کے بعد عہد شکنی کرے اس کا وبال خود اسی پر ہو گا، اللہ کا وہ کچھ نہ بگاڑے گا اور جو اپنی بیعت کو نبھا جائے وہ بڑا ثواب پائے گا