وَلَقَدْ
اٰتَیْنَا
مُوْسَی
الْكِتٰبَ
وَقَفَّیْنَا
مِنْ
بَعْدِهٖ
بِالرُّسُلِ ؗ
وَاٰتَیْنَا
عِیْسَی
ابْنَ
مَرْیَمَ
الْبَیِّنٰتِ
وَاَیَّدْنٰهُ
بِرُوْحِ
الْقُدُسِ ؕ
اَفَكُلَّمَا
جَآءَكُمْ
رَسُوْلٌۢ
بِمَا
لَا
تَهْوٰۤی
اَنْفُسُكُمُ
اسْتَكْبَرْتُمْ ۚ
فَفَرِیْقًا
كَذَّبْتُمْ ؗ
وَفَرِیْقًا
تَقْتُلُوْنَ
۟
ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب دی، اس کے بعد پے در پے رسُول بھیجے، آخر کار عیسٰی ابنِ مر یم کو روشن نشانیاں دے کر بھیجا اور رُوحِ پاک سے اس کی مدد کی۔1 پھر یہ تمہارا کیا ڈھنگ ہے کہ جب بھی کوئی رسُول تمہاری خواہشات نفس کے خلاف کوئی چیز لے کر تمہارے پاس آیا، تو تم نے اس کے مقابلے میں سر کشی ہی کی، کسی کو جھٹلایا اور کسی کو قتل کر ڈالا!
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
خود پرست اسرائیلی ٭٭…
بنی اسرائیل کے عناد و تکبر اور ان کی خواہش پرستی کا بیان ہو رہا ہے کہ توراۃ میں تحریف و تبّدل کیا موسیٰ علیہ السلام کے بعد انہی کی شریعت آنے والے انبیاء کی بھی مخالفت کی چنانچہ فرمایا «اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ» [ 5۔ المائدہ: 44 ] یعنی ہم نے تو
خود پرست اسرائیلی ٭٭…
بنی اسرائیل کے عناد و تکبر اور ان کی خواہش پرستی کا بیان ہو رہا ہے کہ توراۃ میں تحریف و تبّدل کیا موسیٰ علیہ السلام کے بعد انہی کی