البقرة 2:79 فويل للذين يكتبون الكتاب بايديهم ثم يقولون هاذا من عند الله ليشتروا به ثمنا قليلا فويل لهم مما كتبت ايديهم وويل لهم مما يكسبون ٧٩
فَوَیْلٌ
لِّلَّذِیْنَ
یَكْتُبُوْنَ
الْكِتٰبَ
بِاَیْدِیْهِمْ ۗ
ثُمَّ
یَقُوْلُوْنَ
هٰذَا
مِنْ
عِنْدِ
اللّٰهِ
لِیَشْتَرُوْا
بِهٖ
ثَمَنًا
قَلِیْلًا ؕ
فَوَیْلٌ
لَّهُمْ
مِّمَّا
كَتَبَتْ
اَیْدِیْهِمْ
وَوَیْلٌ
لَّهُمْ
مِّمَّا
یَكْسِبُوْنَ
۟
پس خرابی ہے ان لوگوں کے ليے جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھتے ہیں ، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے، تاکہ اس کے ذریعہ تھوڑی سی پونجی حاصل کرلیں پس خرابی ہے اس چیز کی بدولت جو ان کے ہاتھوں نے لکھی اور ان کے ليے خرابی ہے اپنی اس کمائی سے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
امی کا مفہوم اور ویل کے معنی ٭٭…
امی کے معنی وہ شخص جو اچھی طرح لکھنا نہ جانتا ہو امیون اس کی جمع ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں میں ایک صفت «أمي» بھی آئی ہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی لکھنا نہیں جانتے تھے۔ قرآن کہتا ہے «وَمَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّلَا
امی کا مفہوم اور ویل کے معنی ٭٭…
امی کے معنی وہ شخص جو اچھی طرح لکھنا نہ جانتا ہو امیون اس کی جمع ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں میں ایک صفت