ثُمَّ
قَسَتْ
قُلُوْبُكُمْ
مِّنْ
بَعْدِ
ذٰلِكَ
فَهِیَ
كَالْحِجَارَةِ
اَوْ
اَشَدُّ
قَسْوَةً ؕ
وَاِنَّ
مِنَ
الْحِجَارَةِ
لَمَا
یَتَفَجَّرُ
مِنْهُ
الْاَنْهٰرُ ؕ
وَاِنَّ
مِنْهَا
لَمَا
یَشَّقَّقُ
فَیَخْرُجُ
مِنْهُ
الْمَآءُ ؕ
وَاِنَّ
مِنْهَا
لَمَا
یَهْبِطُ
مِنْ
خَشْیَةِ
اللّٰهِ ؕ
وَمَا
اللّٰهُ
بِغَافِلٍ
عَمَّا
تَعْمَلُوْنَ
۟
پھر اس کے بعد تمھارے دل سخت ہوگئے پس وہ پتھر کی مانند ہوگئے یا اس سے بھی زیادہ سخت پتھروں میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں بعض پتھر پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے اور بعض پتھر ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں اور اللہ اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
پتھر دل لوگ ٭٭…
اس آیت میں بنی اسرائیل کو زجر و توبیخ کی گئی ہے کہ اس قدر زبردست معجزے اور قدرت کی نشانیاں دیکھ کر پھر بھی بہت جلد تمہارے دل سخت پتھر بن گئے۔ اسی لیے ایمان والوں کو اس طرح کی سختی سے روکا گیا اور کہا گیا «أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّـهِ وَ
پتھر دل لوگ ٭٭…
اس آیت میں بنی اسرائیل کو زجر و توبیخ کی گئی ہے کہ اس قدر زبردست معجزے اور قدرت کی نشانیاں دیکھ کر پھر بھی بہت جلد تمہارے دل سخت پتھر بن