البقرة 2:273 للفقراء الذين احصروا في سبيل الله لا يستطيعون ضربا في الارض يحسبهم الجاهل اغنياء من التعفف تعرفهم بسيماهم لا يسالون الناس الحافا وما تنفقوا من خير فان الله به عليم ٢٧٣
لِلْفُقَرَآءِ
الَّذِیْنَ
اُحْصِرُوْا
فِیْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ
لَا
یَسْتَطِیْعُوْنَ
ضَرْبًا
فِی
الْاَرْضِ ؗ
یَحْسَبُهُمُ
الْجَاهِلُ
اَغْنِیَآءَ
مِنَ
التَّعَفُّفِ ۚ
تَعْرِفُهُمْ
بِسِیْمٰىهُمْ ۚ
لَا
یَسْـَٔلُوْنَ
النَّاسَ
اِلْحَافًا ؕ
وَمَا
تُنْفِقُوْا
مِنْ
خَیْرٍ
فَاِنَّ
اللّٰهَ
بِهٖ
عَلِیْمٌ
۟۠
صدقات ان حاجت مندوں کے ليے ہیں جو اللہ کی راہ میں گھر گئے ہوں ، زمین میں دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے ناواقف آدمی ان کو غنی خیال کرتا ہے، ان کے نہ مانگنے کی وجہ سے تم ان کو ان کی صورت سے پہچان سکتے ہو وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ اللہ کو معلوم ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مستحق صدقات کون ہیں ٭٭…
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مسلمان صحابہ اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرنا ناپسند کرتے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا اور یہ آیت اتری اور انہیں رخصت دی، [تفسیر ابن جریر الطبری:6202] فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فر
مستحق صدقات کون ہیں ٭٭…
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مسلمان صحابہ اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرنا ناپسند کرتے تھے پھر نبی ک