وَمَثَلُ
الَّذِیْنَ
یُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمُ
ابْتِغَآءَ
مَرْضَاتِ
اللّٰهِ
وَتَثْبِیْتًا
مِّنْ
اَنْفُسِهِمْ
كَمَثَلِ
جَنَّةٍ
بِرَبْوَةٍ
اَصَابَهَا
وَابِلٌ
فَاٰتَتْ
اُكُلَهَا
ضِعْفَیْنِ ۚ
فَاِنْ
لَّمْ
یُصِبْهَا
وَابِلٌ
فَطَلٌّ ؕ
وَاللّٰهُ
بِمَا
تَعْمَلُوْنَ
بَصِیْرٌ
۟
اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال کو اللہ کی رضا چاہنے کے لیے اور اپنے نفس میں پختگی کے لیے خرچ کرتے ہیں ، ایک باغ کی طرح ہے جو بلندی پر ہو اس پر زور کا مینھ پڑا تو وہ دوگنا پھل لایا اور اگر زور کا مینھ نہ پڑے تو ہلکی پھوار بھی کافی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
سدا بہار عمل ٭٭…
یہ مثال مومنوں کے صدقات کی دی جن کی نیتیں اللہ کو خوش کرنے کی ہوتی ہیں اور جزائے خیر ملنے کا بھی پورا یقین ہوتا ہے، جیسے حدیث میں ہے جس شخص نے رمضان کے روزے ایمانداری کے ساتھ ثواب ملنے کے یقین پر رکھے۔ [صحیح بخاری:1901] «رَبْوَہ» کہتے ہیں اونچی زمین کو جہاں نہریں چلتی ہیں اس لفظ
سدا بہار عمل ٭٭…
یہ مثال مومنوں کے صدقات کی دی جن کی نیتیں اللہ کو خوش کرنے کی ہوتی ہیں اور جزائے خیر ملنے کا بھی پورا یقین ہوتا ہے، جیسے حدیث میں ہے جس