وَاِذْ
قَالَ
اِبْرٰهٖمُ
رَبِّ
اَرِنِیْ
كَیْفَ
تُحْیِ
الْمَوْتٰی ؕ
قَالَ
اَوَلَمْ
تُؤْمِنْ ؕ
قَالَ
بَلٰی
وَلٰكِنْ
لِّیَطْمَىِٕنَّ
قَلْبِیْ ؕ
قَالَ
فَخُذْ
اَرْبَعَةً
مِّنَ
الطَّیْرِ
فَصُرْهُنَّ
اِلَیْكَ
ثُمَّ
اجْعَلْ
عَلٰی
كُلِّ
جَبَلٍ
مِّنْهُنَّ
جُزْءًا
ثُمَّ
ادْعُهُنَّ
یَاْتِیْنَكَ
سَعْیًا ؕ
وَاعْلَمْ
اَنَّ
اللّٰهَ
عَزِیْزٌ
حَكِیْمٌ
۟۠
اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب، مجھ کو دکھادے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا اللہ نے کہاکیا تم نے یقین نہیں کیا ابراہیم نے کہا کیوں نہیں ، مگر اس ليے کہ میرے دل کو تسکین ہوجائے فرمایا، تم چار پرندے لو اور ان کو اپنے سے ہلالو پھر ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ پہاڑی پر رکھ دو، پھر ان کو بلاؤ وہ تمھارے پاس دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے اورجان لو کہ اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
معمہ حیات و موت ٭٭…
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس سوال کی بہت سی وجوہات تھیں، ایک تو یہ کہ چونکہ یہی دلیل آپ علیہ السلام نے نمرود مردود کے سامنے پیش کی تھی تو آپ علیہ السلام نے چاہا کہ علم الیقین سے عین الیقین حاصل ہو جائے، جانتا تو ہوں ہی لیکن دیکھ بھی لیں، صحیح بخاری شریف میں اس آیت کے موقع کی ایک
معمہ حیات و موت ٭٭…
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس سوال کی بہت سی وجوہات تھیں، ایک تو یہ کہ چونکہ یہی دلیل آپ علیہ السلام نے نمرود مردود کے سامنے پیش کی