تِلْكَ
الرُّسُلُ
فَضَّلْنَا
بَعْضَهُمْ
عَلٰی
بَعْضٍ ۘ
مِنْهُمْ
مَّنْ
كَلَّمَ
اللّٰهُ
وَرَفَعَ
بَعْضَهُمْ
دَرَجٰتٍ ؕ
وَاٰتَیْنَا
عِیْسَی
ابْنَ
مَرْیَمَ
الْبَیِّنٰتِ
وَاَیَّدْنٰهُ
بِرُوْحِ
الْقُدُسِ ؕ
وَلَوْ
شَآءَ
اللّٰهُ
مَا
اقْتَتَلَ
الَّذِیْنَ
مِنْ
بَعْدِهِمْ
مِّنْ
بَعْدِ
مَا
جَآءَتْهُمُ
الْبَیِّنٰتُ
وَلٰكِنِ
اخْتَلَفُوْا
فَمِنْهُمْ
مَّنْ
اٰمَنَ
وَمِنْهُمْ
مَّنْ
كَفَرَ ؕ
وَلَوْ
شَآءَ
اللّٰهُ
مَا
اقْتَتَلُوْا ۫
وَلٰكِنَّ
اللّٰهَ
یَفْعَلُ
مَا
یُرِیْدُ
۟۠
ان پیغمبروں میں سے بعض کوہم نے بعض پر فضیلت دی ان میں سے بعض سے اللہ نے کلام کیا اور بعض کے درجے بلندکيے اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کوکھلی نشانیاں دیں اور ہم نے اس کی مدد کی روح القدس سے اور اللہ اگر چاہتا توان کے بعد والے صاف حکم آجانے کے بعد نہ لڑتے، مگر انھوں نے اختلاف کیا پھر ان میں سے کوئی ایمان لایا اور کسی نے انکار کیا اور اگر اللہ چاہتا تو وہ نہ لڑتے، مگر اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ذِکر مدارج الانبیاء ٭٭…
یہاں یہ وضاحت ہو رہی ہے کہ رسولوں میں بھی مراتب ہیں، جیسا اور جگہ فرمایا «وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّينَ عَلَى بَعْضٍ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا» [ 17-الإسراء: 55 ] ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی اور داؤد علیہ السلام کو ہم نے زبور دی، یہاں بھی اسی کا ذِکر ک
ذِکر مدارج الانبیاء ٭٭…
یہاں یہ وضاحت ہو رہی ہے کہ رسولوں میں بھی مراتب ہیں، جیسا اور جگہ فرمایا «وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّينَ عَلَى بَعْضٍ