وَاِنْ
طَلَّقْتُمُوْهُنَّ
مِنْ
قَبْلِ
اَنْ
تَمَسُّوْهُنَّ
وَقَدْ
فَرَضْتُمْ
لَهُنَّ
فَرِیْضَةً
فَنِصْفُ
مَا
فَرَضْتُمْ
اِلَّاۤ
اَنْ
یَّعْفُوْنَ
اَوْ
یَعْفُوَا
الَّذِیْ
بِیَدِهٖ
عُقْدَةُ
النِّكَاحِ ؕ
وَاَنْ
تَعْفُوْۤا
اَقْرَبُ
لِلتَّقْوٰی ؕ
وَلَا
تَنْسَوُا
الْفَضْلَ
بَیْنَكُمْ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
بِمَا
تَعْمَلُوْنَ
بَصِیْرٌ
۟
اور اگر تم ان کو طلاق دو قبل اس کے کہ ان کو ہاتھ لگاؤ اور تم ان کے ليے کچھ مہر بھی مقرر کرچکے تھے تو جتنامہر تم نے مقرر کیا ہو اس کا آدھا ادا کردو، الا یہ کہ وہ معاف کردیں ، یا وہ مرد معاف کردے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اور تمھارا معاف کردینا زیادہ قریب ہے تقویٰ سے اور آپس میں احسان کرنے سے غفلت مت کرو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مزید وضاحت ٭٭…
اس آیت میں صاف دلالت ہے اس امر پر کہ پہلی آیت میں جن عورتوں کیلئے متعہ مقرر کیا گیا تھا وہ صرف وہی عورتیں ہیں جن کا ذِکر اس آیت میں تھا کیونکہ اس آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ دخول سے پہلے جبکہ طلاق دے دی گئی ہو اور مہر مقرر ہو چکا ہو تو آدھا مہر دینا پڑے گا۔ اگر یہاں بھی اس کے سوا کوئی اور
مزید وضاحت ٭٭…
اس آیت میں صاف دلالت ہے اس امر پر کہ پہلی آیت میں جن عورتوں کیلئے متعہ مقرر کیا گیا تھا وہ صرف وہی عورتیں ہیں جن کا ذِکر اس آیت میں تھا ک