وَاِذَا
طَلَّقْتُمُ
النِّسَآءَ
فَبَلَغْنَ
اَجَلَهُنَّ
فَلَا
تَعْضُلُوْهُنَّ
اَنْ
یَّنْكِحْنَ
اَزْوَاجَهُنَّ
اِذَا
تَرَاضَوْا
بَیْنَهُمْ
بِالْمَعْرُوْفِ ؕ
ذٰلِكَ
یُوْعَظُ
بِهٖ
مَنْ
كَانَ
مِنْكُمْ
یُؤْمِنُ
بِاللّٰهِ
وَالْیَوْمِ
الْاٰخِرِ ؕ
ذٰلِكُمْ
اَزْكٰی
لَكُمْ
وَاَطْهَرُ ؕ
وَاللّٰهُ
یَعْلَمُ
وَاَنْتُمْ
لَا
تَعْلَمُوْنَ
۟
جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ عدّت پوری کر لیں، تو پھر اس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے زیرِ تجویز شوہروں سے نکاح کر لیں، جب کہ وہ معروف طریقے سے با ہم مناکحت پر راضی ہوں۔ 1تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگز نہ کرنا، اگر تم اللہ اور روزِ آخر پر ایمان لانے والے ہو۔ تمہارے لیے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے کہ اس سے باز رہو۔ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ورثاء کے لئے طلاق کی مزید آئینی وضاحت ٭٭…
اس آیت میں عورتوں کے ولی وارثوں کو ممانعت ہو رہی ہے کہ جب کسی عورت کو طلاق ہو جائے اور عدت بھی گزر جائے پھر میاں بیوی اپنی رضا مندی سے نکاح کرنا چاہیں تو وہ انہیں نہ روکیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22/5] اس آیت میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ عورت خود اپنا نکاح
ورثاء کے لئے طلاق کی مزید آئینی وضاحت ٭٭…
اس آیت میں عورتوں کے ولی وارثوں کو ممانعت ہو رہی ہے کہ جب کسی عورت کو طلاق ہو جائے اور عدت بھی گزر جائے پھر می