فَاِنْ
طَلَّقَهَا
فَلَا
تَحِلُّ
لَهٗ
مِنْ
بَعْدُ
حَتّٰی
تَنْكِحَ
زَوْجًا
غَیْرَهٗ ؕ
فَاِنْ
طَلَّقَهَا
فَلَا
جُنَاحَ
عَلَیْهِمَاۤ
اَنْ
یَّتَرَاجَعَاۤ
اِنْ
ظَنَّاۤ
اَنْ
یُّقِیْمَا
حُدُوْدَ
اللّٰهِ ؕ
وَتِلْكَ
حُدُوْدُ
اللّٰهِ
یُبَیِّنُهَا
لِقَوْمٍ
یَّعْلَمُوْنَ
۟
پھر اگر وہ اس کو طلاق دیدے تو اس کے بعد وہ عورت اس کے ليے حلال نہیں جب تک کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے پھر اگر وہ مرد اس کو طلاق دیدے تب گناہ نہیں ان دونوں پر کہ پھر مل جائیں بشرطیکہ انھیں اللہ کی حدوں پر قائم رہنے کی توقع ہو یہ خداوندی ضابطے ہیں جن کو وہ بیان کر رہا ہے ان لوگوں کے ليے جو دانش مند ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
پھر ارشاد ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے چکنے کے بعد تیسری بھی دیدے تو وہ اس پر حرام ہو جائے گی یہاں تک کہ دوسرے سے باقاعدہ نکاح ہو، ہم بستری ہو، پھر وہ مر جائے یا طلاق دیدے۔ پس اگر نکاح کے مثلاً لونڈی بنا کر وطی بھی کر لے تو بھی اگلے خاوند کیلئے حلال نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح گو نکاح با
باب…
پھر ارشاد ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے چکنے کے بعد تیسری بھی دیدے تو وہ اس پر حرام ہو جائے گی یہاں تک کہ دوسرے سے باقاعدہ نکاح ہو، ہ