اَمْ
حَسِبْتُمْ
اَنْ
تَدْخُلُوا
الْجَنَّةَ
وَلَمَّا
یَاْتِكُمْ
مَّثَلُ
الَّذِیْنَ
خَلَوْا
مِنْ
قَبْلِكُمْ ؕ
مَسَّتْهُمُ
الْبَاْسَآءُ
وَالضَّرَّآءُ
وَزُلْزِلُوْا
حَتّٰی
یَقُوْلَ
الرَّسُوْلُ
وَالَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
مَعَهٗ
مَتٰی
نَصْرُ
اللّٰهِ ؕ
اَلَاۤ
اِنَّ
نَصْرَ
اللّٰهِ
قَرِیْبٌ
۟
پھر کیا1 تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یوُ نہی جنت کا داخلہ تمہیں مِل جائے گا، حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزرا ہے، جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے؟ ان پر سختیاں گزر یں، مصیبتیں آئیں، ہلا مارے گئے، حتٰی کہ وقت کا رسول اور اس کےساتھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔۔۔۔ اس وقت انھیں تسلّی دی گئی کہ ہاں اللہ کی مدد قریب ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ہم سب کو آزمائش سے گزرنا ہے ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ آزمائش اور امتحان سے پہلے جنت کی آرزوئیں ٹھیک نہیں اگلی امتوں کا بھی امتحان لیا گیا، انہیں بھی بیماریاں مصیبتیں پہنچیں، «بأساء» کے معنی فقیری [تفسیر ابن ابی حاتم:217/2] «وضراء» کے معنی سخت بیماری بھی کیا گیا ہے۔ «وَزُلْزِلُوا» ان پر دشمنوں کا خوف
ہم سب کو آزمائش سے گزرنا ہے ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ آزمائش اور امتحان سے پہلے جنت کی آرزوئیں ٹھیک نہیں اگلی امتوں کا بھی امتحان لیا گیا، انہیں بھی بیماریاں مص