اَلْحَجُّ
اَشْهُرٌ
مَّعْلُوْمٰتٌ ۚ
فَمَنْ
فَرَضَ
فِیْهِنَّ
الْحَجَّ
فَلَا
رَفَثَ
وَلَا
فُسُوْقَ ۙ
وَلَا
جِدَالَ
فِی
الْحَجِّ ؕ
وَمَا
تَفْعَلُوْا
مِنْ
خَیْرٍ
یَّعْلَمْهُ
اللّٰهُ ؔؕ
وَتَزَوَّدُوْا
فَاِنَّ
خَیْرَ
الزَّادِ
التَّقْوٰی ؗ
وَاتَّقُوْنِ
یٰۤاُولِی
الْاَلْبَابِ
۟
حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیّت کرے، اُسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل1 ، کوئی بدعملی،2کوئی لڑائی جھگڑے کی بات3 سرزد نہ ہو۔ اور جو نیک کام تم کرو گے ، وہ اللہ کے علم میں ہوگا۔ سفرِحج کے لیے زادِ راہ ساتھ لے جاوٴ۔ اور سب سے بہتر زادِراہ پرہیزگاری ہے۔ پس اے ہوشمندو ! میری نافرمانی سے پرہیزکرو۔4
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
احرام کے مسائل ٭٭…
عربی دان حضرات نے کہا ہے کہ مطلب اگلے جملہ کا یہ ہے کہ حج حج ہے ان مہینوں کا جو معلوم اور مقرر ہیں، پس حج کے مہینوں میں احرام باندھنا دوسرے مہینوں کے احرام سے زیادہ کامل ہے، گو اور ماہ کا احرام بھی صحیح ہے، امام مالک، امام ابوحنیفہ، امام احمد، امام اسحٰق، امام ابراہیم نخعی، امام ثور
احرام کے مسائل ٭٭…
عربی دان حضرات نے کہا ہے کہ مطلب اگلے جملہ کا یہ ہے کہ حج حج ہے ان مہینوں کا جو معلوم اور مقرر ہیں، پس حج کے مہینوں میں احرام باندھنا