البقرة 2:191 واقتلوهم حيث ثقفتموهم واخرجوهم من حيث اخرجوكم والفتنة اشد من القتل ولا تقاتلوهم عند المسجد الحرام حتى يقاتلوكم فيه فان قاتلوكم فاقتلوهم كذالك جزاء الكافرين ١٩١
وَاقْتُلُوْهُمْ
حَیْثُ
ثَقِفْتُمُوْهُمْ
وَاَخْرِجُوْهُمْ
مِّنْ
حَیْثُ
اَخْرَجُوْكُمْ
وَالْفِتْنَةُ
اَشَدُّ
مِنَ
الْقَتْلِ ۚ
وَلَا
تُقٰتِلُوْهُمْ
عِنْدَ
الْمَسْجِدِ
الْحَرَامِ
حَتّٰی
یُقٰتِلُوْكُمْ
فِیْهِ ۚ
فَاِنْ
قٰتَلُوْكُمْ
فَاقْتُلُوْهُمْ ؕ
كَذٰلِكَ
جَزَآءُ
الْكٰفِرِیْنَ
۟
اور قتل کرو ان کو جس جگہ پاؤ اور نکال دو ان کو جہاں سے انھوں نے تم کو نکالا ہےاور فتنہ سخت تر ہے قتل سے اور ان سے مسجد حرام کے پاس نہ لڑو جب تک کہ وہ تم سے اس میں جنگ نہ چھیڑیں پس اگر وہ تم سے جنگ چھیڑیں تو ان کو قتل کرو یہی سزا ہے منکروں کی
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
حکم جہاد اور شرائط ٭٭…
حضرت ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ شریف میں جہاد کا پہلا حکم یہی نازل ہوا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے حکم کی رو سے صرف ان لوگوں سے ہی لڑتے تھے جو آپ سے لڑیں جو آپ سے نہ لڑیں خود ان سے لڑائی نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ سورۃ برأت نازل ہوئی، [تفسیر ابن جریر
حکم جہاد اور شرائط ٭٭…
حضرت ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ شریف میں جہاد کا پہلا حکم یہی نازل ہوا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے