وَلَا
تَاْكُلُوْۤا
اَمْوَالَكُمْ
بَیْنَكُمْ
بِالْبَاطِلِ
وَتُدْلُوْا
بِهَاۤ
اِلَی
الْحُكَّامِ
لِتَاْكُلُوْا
فَرِیْقًا
مِّنْ
اَمْوَالِ
النَّاسِ
بِالْاِثْمِ
وَاَنْتُمْ
تَعْلَمُوْنَ
۟۠
اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دُوسرے کے مال ناروا طریقہ سے کھاوٴ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمہیں دُوسروں کے مال کا کوئی حصہّ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
منصف، انصاف اور مدعی ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں ہے جس پر کسی اور کا مال چاہیئے اور اس حقدار کے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو یہ شخص کا انکار کر جائے اور حاکم کے پاس جا کر بری ہو جائے حالانکہ وہ جانتا ہو کہ اس پر اس کا حق ہے وہ اس کا مال مار رہا ہے اور حرام کھا رہا
منصف، انصاف اور مدعی ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں ہے جس پر کسی اور کا مال چاہیئے اور اس حقدار کے پاس کوئی دلیل