البقرة 2:180 كتب عليكم اذا حضر احدكم الموت ان ترك خيرا الوصية للوالدين والاقربين بالمعروف حقا على المتقين ١٨٠
صفحہ 27 · پارہ 2
كُتِبَ
عَلَیْكُمْ
اِذَا
حَضَرَ
اَحَدَكُمُ
الْمَوْتُ
اِنْ
تَرَكَ
خَیْرَا ۖۚ
لْوَصِیَّةُ
لِلْوَالِدَیْنِ
وَالْاَقْرَبِیْنَ
بِالْمَعْرُوْفِ ۚ
حَقًّا
عَلَی
الْمُتَّقِیْنَ
۟ؕ
تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور وہ اپنے پیچھے، مال چھوڑ رہا ہو تو وہ معروف کے مطابق وصیت کردے اپنے ماں باپ کے ليے اور اپنے قرابت داروں کے ليے یہ ضروری ہے خدا سے ڈرنے والوں کے ليے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
وصیت کی وضاحت ٭٭…
اس آیت میں ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے وصیت کرنے کا حکم ہو رہا ہے، میراث کے حکم سے پہلے یہ واجب تھا ٹھیک قول یہی ہے، لیکن میراث کے احکام نے اس وصیت کے حکم کو منسوخ کر دیا، ہر وارث اپنا مقررہ حصہ بy وصیت لے لے گا، سنن وغیرہ میں عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے حدیث ہے کہتے ہیں میں نے
وصیت کی وضاحت ٭٭…
اس آیت میں ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے وصیت کرنے کا حکم ہو رہا ہے، میراث کے حکم سے پہلے یہ واجب تھا ٹھیک قول یہی ہے، لیکن میراث کے