یٰۤاَیُّهَا
النَّاسُ
كُلُوْا
مِمَّا
فِی
الْاَرْضِ
حَلٰلًا
طَیِّبًا ۖؗ
وَّلَا
تَتَّبِعُوْا
خُطُوٰتِ
الشَّیْطٰنِ ؕ
اِنَّهٗ
لَكُمْ
عَدُوٌّ
مُّبِیْنٌ
۟
لوگو! زمین کی چیزوں میں سے حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر مت چلو، بے شک وہ تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
روزی دینے والا کون؟ ٭٭…
اوپر چونکہ توحید کا بیان ہوا تھا اس لیے یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ تمام مخلوق کا روزی رساں بھی وہی ہے، فرماتا ہے کہ میرا یہ احسان بھی نہ بھولو کہ میں نے تم پر پاکیزہ چیزیں حلال کیں جو تمہیں لذیذ اور مرغوب ہیں جو نہ جسم کو ضرر پہنچائیں نہ صحت کو نہ عقل و ہوش کو ضرر دیں، میں تمہیں
روزی دینے والا کون؟ ٭٭…
اوپر چونکہ توحید کا بیان ہوا تھا اس لیے یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ تمام مخلوق کا روزی رساں بھی وہی ہے، فرماتا ہے کہ میرا یہ احسان