وَاِذْ
قَالَ
اِبْرٰهٖمُ
رَبِّ
اجْعَلْ
هٰذَا
بَلَدًا
اٰمِنًا
وَّارْزُقْ
اَهْلَهٗ
مِنَ
الثَّمَرٰتِ
مَنْ
اٰمَنَ
مِنْهُمْ
بِاللّٰهِ
وَالْیَوْمِ
الْاٰخِرِ ؕ
قَالَ
وَمَنْ
كَفَرَ
فَاُمَتِّعُهٗ
قَلِیْلًا
ثُمَّ
اَضْطَرُّهٗۤ
اِلٰی
عَذَابِ
النَّارِ ؕ
وَبِئْسَ
الْمَصِیْرُ
۟
اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب، اس شہر کو امن کا شہر بنادے اور اس کے باشندوں کو، جو ان میں سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھیں ، پھلوں کی روزی عطا فرما اللہ نے کہا جو انکار کرے گا، میں اس کو بھی تھوڑے دنوں فائدہ دوں گا پھر اس کو آگ کے عذاب کی طرف دھکیل دوں گا اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شوق زیارت اور بڑھتا ہے ٭٭…
«مثابتہ» سے مراد باربار آنا۔ حج کرنے کے بعد بھی دل میں لگن لگی رہتی ہے گویا حج کرنے کے بعد بھی ہر بار دل میں ایک بار اور حج کرنے کی تمنا رہتی ہے دنیا کے ہر گوشہ سے لوگ بھاگے دوڑے اس کی طرف جوق در جوق چلے آ رہے ہیں یہی جمع ہونے کی جگہ ہے اور یہی امن کا مقام ہے جس میں ہتھیا
شوق زیارت اور بڑھتا ہے ٭٭…
«مثابتہ» سے مراد باربار آنا۔ حج کرنے کے بعد بھی دل میں لگن لگی رہتی ہے گویا حج کرنے کے بعد بھی ہر بار دل میں ایک بار اور ح