وَقَالَ
الَّذِیْنَ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
لَوْلَا
یُكَلِّمُنَا
اللّٰهُ
اَوْ
تَاْتِیْنَاۤ
اٰیَةٌ ؕ
كَذٰلِكَ
قَالَ
الَّذِیْنَ
مِنْ
قَبْلِهِمْ
مِّثْلَ
قَوْلِهِمْ ؕ
تَشَابَهَتْ
قُلُوْبُهُمْ ؕ
قَدْ
بَیَّنَّا
الْاٰیٰتِ
لِقَوْمٍ
یُّوْقِنُوْنَ
۟
اور جو لوگ علم نہیں رکھتے، انھوں نے کہا اللہ کیوں نہیں کلام کرتا ہم سے یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی اسی طرح ان کے اگلے بھی انھیں کی سی بات کہہ چکے ہیں ، ان سب کے دل ایک جیسے ہیں ، ہم نے پیش کردی ہیں نشانیاں ان لوگوں کے ليے جو یقین کرنے والے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
طلب نظارہ ، ایک حماقت ٭٭…
رافع بن حریملہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اگر آپ سچے ہیں تو اللہ تعالیٰ خود ہم سے کیوں نہیں کہتا؟ ہم بھی تو خود اس سے اس کا کلام سنیں، اس پر یہ آیت اتری [تفسیر ابن ابی حاتم:352/1:] مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ بات نصرانیوں نے کہی تھی، ابن جریر رحمہ اللہ
طلب نظارہ ، ایک حماقت ٭٭…
رافع بن حریملہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اگر آپ سچے ہیں تو اللہ تعالیٰ خود ہم سے کیوں نہیں کہتا؟ ہم بھی ت