وَمَنْ
اَظْلَمُ
مِمَّنْ
مَّنَعَ
مَسٰجِدَ
اللّٰهِ
اَنْ
یُّذْكَرَ
فِیْهَا
اسْمُهٗ
وَسَعٰی
فِیْ
خَرَابِهَا ؕ
اُولٰٓىِٕكَ
مَا
كَانَ
لَهُمْ
اَنْ
یَّدْخُلُوْهَاۤ
اِلَّا
خَآىِٕفِیْنَ ؕ۬
لَهُمْ
فِی
الدُّنْیَا
خِزْیٌ
وَّلَهُمْ
فِی
الْاٰخِرَةِ
عَذَابٌ
عَظِیْمٌ
۟
اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں کو اس سے روکے کہ وہاں اللہ کے نام کی یاد کی جائے اور ان کو اجاڑنے کی کوشش کرے ان کا حال تو یہ ہونا چاهيے تھا کہ مسجدوں میں اللہ سے ڈرتے ہوئے داخل ہوں ان کے ليے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے ليے بھاری سزا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نصاریٰ اور یہودی مکافات عمل کا شکار! ٭٭…
اس آیت کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ اس سے مراد نصاریٰ ہیں دوسرا یہ کہ اس سے مراد مشرکین ہیں نصرانی بھی بیت المقدس کی مسجد میں پلیدی ڈال دیتے تھے اور لوگوں کو اس میں نماز ادا کرنے سے روکتے تھے، بخت نصر نے جب بیت المقدس کی بربادی کے لیے چڑھائی کے تھی تو ا
نصاریٰ اور یہودی مکافات عمل کا شکار! ٭٭…
اس آیت کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ اس سے مراد نصاریٰ ہیں دوسرا یہ کہ اس سے مراد مشرکین ہیں نصرانی بھی