البقرة 2:111 وقالوا لن يدخل الجنة الا من كان هودا او نصارى تلك امانيهم قل هاتوا برهانكم ان كنتم صادقين ١١١
وَقَالُوْا
لَنْ
یَّدْخُلَ
الْجَنَّةَ
اِلَّا
مَنْ
كَانَ
هُوْدًا
اَوْ
نَصٰرٰی ؕ
تِلْكَ
اَمَانِیُّهُمْ ؕ
قُلْ
هَاتُوْا
بُرْهَانَكُمْ
اِنْ
كُنْتُمْ
صٰدِقِیْنَ
۟
اور یہ کہتے ہیں ہرگز داخل نہ ہوگا جنت میں مگر وہی جو یہودی ہو یا نصرانی ہو یہ ان کی تمنائیں ہیں ان سے کہو اپنی دلیل پیش کرو اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شیطان صفت مغرور یہودی ٭٭…
یہاں پر یہودیوں اور نصرانیوں کے غرور کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی کو کچھ بھی نہیں سمجھتے اور صاف کہتے ہیں کہ ہمارے سوا جنت میں کوئی نہیں جائے گا سورۃ المائدہ میں ان کا ایک قول یہ بھی بیان ہوا ہے کہ «نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّـهِ وَأَحِبَّاؤُهُ» [ 5-المائدہ: 18 ] ہم ا
شیطان صفت مغرور یہودی ٭٭…
یہاں پر یہودیوں اور نصرانیوں کے غرور کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی کو کچھ بھی نہیں سمجھتے اور صاف کہتے ہیں کہ ہمارے سوا