وَقَالُوْا
لَنْ
یَّدْخُلَ
الْجَنَّةَ
اِلَّا
مَنْ
كَانَ
هُوْدًا
اَوْ
نَصٰرٰی ؕ
تِلْكَ
اَمَانِیُّهُمْ ؕ
قُلْ
هَاتُوْا
بُرْهَانَكُمْ
اِنْ
كُنْتُمْ
صٰدِقِیْنَ
۟
ان کا کہنا ہے کہ کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا جب تک کہ وہ یہودی نہ ہو یا ( عیسائیوں کے خیال کے مطابق ) عیسائی نہ ہو۔ یہ ان کی تمنائیں ہیں1۔ ان سے کہو ، اپنی دلیل پیش کرو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شیطان صفت مغرور یہودی ٭٭…
یہاں پر یہودیوں اور نصرانیوں کے غرور کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی کو کچھ بھی نہیں سمجھتے اور صاف کہتے ہیں کہ ہمارے سوا جنت میں کوئی نہیں جائے گا سورۃ المائدہ میں ان کا ایک قول یہ بھی بیان ہوا ہے کہ «نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّـهِ وَأَحِبَّاؤُهُ» [ 5-المائدہ: 18 ] ہم ا
شیطان صفت مغرور یہودی ٭٭…
یہاں پر یہودیوں اور نصرانیوں کے غرور کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی کو کچھ بھی نہیں سمجھتے اور صاف کہتے ہیں کہ ہمارے سوا