وَدَّ
كَثِیْرٌ
مِّنْ
اَهْلِ
الْكِتٰبِ
لَوْ
یَرُدُّوْنَكُمْ
مِّنْ
بَعْدِ
اِیْمَانِكُمْ
كُفَّارًا ۖۚ
حَسَدًا
مِّنْ
عِنْدِ
اَنْفُسِهِمْ
مِّنْ
بَعْدِ
مَا
تَبَیَّنَ
لَهُمُ
الْحَقُّ ۚ
فَاعْفُوْا
وَاصْفَحُوْا
حَتّٰی
یَاْتِیَ
اللّٰهُ
بِاَمْرِهٖ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
عَلٰی
كُلِّ
شَیْءٍ
قَدِیْرٌ
۟
اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر پھر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں۔ اگرچہ حق ان پر ظاہر ہو چکا ہے مگر اپنے نفس کے حسد کی بنا پر تمہارے لیے ان کی یہ خواہش ہے۔ اس کے جواب میں تم عفو و درگزر سے کام لو 1یہاں تک کہ اللہ خود ہی اپنا فیصلہ نافذ کر دے۔ مطمئن رہو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قومی عصبیت باعث شقاوت ہے ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حی بن اخطب اور ابویاسر بن اخطب یہ دونوں یہودی سب سے زیادہ مسلمانوں کے حاسد تھے لوگوں کو اسلام سے روکتے تھے اور عربوں سے جلتے تھے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کعب بن اشرف کا بھی یہی شغل تھا زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں اس کے بارے میں
قومی عصبیت باعث شقاوت ہے ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حی بن اخطب اور ابویاسر بن اخطب یہ دونوں یہودی سب سے زیادہ مسلمانوں کے حاسد تھے لو