وَلَمَّا
جَآءَهُمْ
رَسُوْلٌ
مِّنْ
عِنْدِ
اللّٰهِ
مُصَدِّقٌ
لِّمَا
مَعَهُمْ
نَبَذَ
فَرِیْقٌ
مِّنَ
الَّذِیْنَ
اُوْتُوا
الْكِتٰبَ ۙۗ
كِتٰبَ
اللّٰهِ
وَرَآءَ
ظُهُوْرِهِمْ
كَاَنَّهُمْ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟ؗ
اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسول اس کتاب کی تصدیق و تائید کرتا ہوا آیا جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی، تو اِن اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو اس طرح پس پشت ڈالا، گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
دوسری جگہ صاف بیان ہے کہ ان کی کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر موجود تھا فرمایا آیت «يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ» [ 7۔ الاعراف: 157 ] یعنی یہ لوگ توراۃ وانجیل میں حضور کا ذکر موجود پاتے ہیں یہاں بھی فرمایا ہے کہ جب ان کی کتاب کی تصدیق
باب…
دوسری جگہ صاف بیان ہے کہ ان کی کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر موجود تھا فرمایا آیت «يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّ