فَتَوَلّٰی
عَنْهُمْ
وَقَالَ
یٰقَوْمِ
لَقَدْ
اَبْلَغْتُكُمْ
رِسٰلٰتِ
رَبِّیْ
وَنَصَحْتُ
لَكُمْ ۚ
فَكَیْفَ
اٰسٰی
عَلٰی
قَوْمٍ
كٰفِرِیْنَ
۟۠
اس وقت شعیب ان سے منہ موڑ کر چلا اور کہا، اے میری قوم، میں تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچا چکا اور تمھاری خیر خواہی کرچکا اب میں کیا افسوس کروں منکروں پر
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
باب
قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ چکنے کے بعد شعیب علیہ السلام وہاں سے چلے اور بطور ڈانٹ ڈپٹ کے فرمایا کہ میں سبکدوش ہو چکا ہوں۔ اللہ کا پیغام سنا چکا، سمجھا بجھا چکا، غم خواری، ہمدردی کر چکا۔ لیکن تم کافر کے کافر ہی رہے۔ اب مجھے کیا پڑی کہ تمہارے افسوس میں اپنی جان ہلکان کروں؟
صفحہ نمبر2997
باب…
قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ چکنے کے بعد شعیب علیہ السلام وہاں سے چلے اور بطور ڈانٹ ڈپٹ کے فرمایا کہ میں سبکدوش ہو چکا ہوں۔ اللہ کا پیغام سنا چکا،