الأعراف 7:66 قال الملا الذين كفروا من قومه انا لنراك في سفاهة وانا لنظنك من الكاذبين ٦٦
قَالَ
الْمَلَاُ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
مِنْ
قَوْمِهٖۤ
اِنَّا
لَنَرٰىكَ
فِیْ
سَفَاهَةٍ
وَّاِنَّا
لَنَظُنُّكَ
مِنَ
الْكٰذِبِیْنَ
۟
Uski qaum ke sardaron ne, jo uski baat maanne se inkar kar rahey thay, jawab mein kaha “ hum to tumhein be-aqali (in folly)mein mubtila samajhte hain aur humein gumaan hai ke tum jhootey ho”
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ہود علیہ السلام اور ان کا رویہ! ٭٭…
فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف نوح علیہ السلام کو ہم نے بھیجا تھا، قوم عاد کی طرف ہود علیہ السلام کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا، یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔
فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَ
ہود علیہ السلام اور ان کا رویہ! ٭٭…
فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف نوح علیہ السلام کو ہم نے بھیجا تھا، قوم عاد کی طرف ہود علیہ السلام کو ہم نے نبی بنا