وَهُوَ
الَّذِیْ
یُرْسِلُ
الرِّیٰحَ
بُشْرًاۢ
بَیْنَ
یَدَیْ
رَحْمَتِهٖ ؕ
حَتّٰۤی
اِذَاۤ
اَقَلَّتْ
سَحَابًا
ثِقَالًا
سُقْنٰهُ
لِبَلَدٍ
مَّیِّتٍ
فَاَنْزَلْنَا
بِهِ
الْمَآءَ
فَاَخْرَجْنَا
بِهٖ
مِنْ
كُلِّ
الثَّمَرٰتِ ؕ
كَذٰلِكَ
نُخْرِجُ
الْمَوْتٰی
لَعَلَّكُمْ
تَذَكَّرُوْنَ
۟
اور وہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے خوش خبری بناکر بھیجتا ہے پھر جب وہ بوجھل بادلوں کو اٹھالیتی ہیں تو ہم اس کو کسی خشک سر زمین کی طرف ہانک دیتے ہیں پھر ہم اس کے ذریعہ پانی اتارتے ہیں پھر ہم اس کے ذریعہ سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں اسی طرح ہم مُردوں کو نکالیں گے، تاکہ تم غور کرو
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
تمام مظاہر قدرت اس کی شان کے مظہر ہیں ٭٭…
اوپر بیان ہوا کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے۔ سب پر قبضہ رکھنے والا، حاکم، تدبیر کرنے والا، مطیع اور فرمانبردار رکھنے والا اللہ ہی ہے۔ پھر دعائیں کرنے کا حکم دیا کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اب یہاں بیان ہو رہا ہے کہ رزاق بھی وہی ہے اور قیامت کے دن مردوں کو
تمام مظاہر قدرت اس کی شان کے مظہر ہیں ٭٭…
اوپر بیان ہوا کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے۔ سب پر قبضہ رکھنے والا، حاکم، تدبیر کرنے والا، مطیع اور فرمانبرد