الأعراف 7:50 ونادى اصحاب النار اصحاب الجنة ان افيضوا علينا من الماء او مما رزقكم الله قالوا ان الله حرمهما على الكافرين ٥٠
وَنَادٰۤی
اَصْحٰبُ
النَّارِ
اَصْحٰبَ
الْجَنَّةِ
اَنْ
اَفِیْضُوْا
عَلَیْنَا
مِنَ
الْمَآءِ
اَوْ
مِمَّا
رَزَقَكُمُ
اللّٰهُ ؕ
قَالُوْۤا
اِنَّ
اللّٰهَ
حَرَّمَهُمَا
عَلَی
الْكٰفِرِیْنَ
۟ۙ
اور جہنم والے آواز دیں گے جنت والوں کو کہ کچھ تو بہا دو ہماری طرف پانی میں سے یا اس رزق میں سے (کچھ دے دو) جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے وہ کہیں گے کہ اللہ نے حرام کردی ہیں یہ دونوں چیزیں (جنت کا پانی اور رزق) کافروں پر۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جیسی کرنی ویسی بھرنی ٭٭…
دوزخیوں کی ذلت و خواری اور ان کا بھیک مانگنا اور ڈانٹ دیا جانا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جنتیوں سے پانی یا کھانا مانگیں گے۔ اپنے نزدیک کے رشتے، کنبے والے جیسے باپ، بیٹے، بھائی، بہن وغیرہ سے کہیں گے کہ ہم جل بھن رہے ہیں، بھوکے پیاسے ہیں، ہمیں ایک گھونٹ پانی یا ایک لقمہ کھانا دے دو۔
جیسی کرنی ویسی بھرنی ٭٭…
دوزخیوں کی ذلت و خواری اور ان کا بھیک مانگنا اور ڈانٹ دیا جانا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جنتیوں سے پانی یا کھانا مانگیں گے۔ اپنے نزد