یٰبَنِیْۤ
اٰدَمَ
لَا
یَفْتِنَنَّكُمُ
الشَّیْطٰنُ
كَمَاۤ
اَخْرَجَ
اَبَوَیْكُمْ
مِّنَ
الْجَنَّةِ
یَنْزِعُ
عَنْهُمَا
لِبَاسَهُمَا
لِیُرِیَهُمَا
سَوْاٰتِهِمَا ؕ
اِنَّهٗ
یَرٰىكُمْ
هُوَ
وَقَبِیْلُهٗ
مِنْ
حَیْثُ
لَا
تَرَوْنَهُمْ ؕ
اِنَّا
جَعَلْنَا
الشَّیٰطِیْنَ
اَوْلِیَآءَ
لِلَّذِیْنَ
لَا
یُؤْمِنُوْنَ
۟
اے آدم کی اولاد، شیطان تم کو بہکا نہ دے جس طرح اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوادیا، اس نے ان کے لباس اتروائے تاکہ ان کو ان کے سامنے بے پردہ کردے وہ اور اس کے ساتھی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انھیں نہیں دیکھتے ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا دوست بنادیا ہے جو ایمان نہیں لاتے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
ابلیس سے بچنے کی تاکید ٭٭…
تمام انسانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ ہوشیار کر رہا ہے کہ دیکھو ابلیس کی مکاریوں سے بچتے رہنا، وہ تمہارا بڑا ہی دشمن ہے۔ دیکھو! اسی نے تمہارے باپ آدم علیہ السلام کو دار سرور سے نکالا اور اس مصیبت کے قید خانے میں ڈالا، ان کی پردہ دری کی۔ پس تمہیں اس کے ہتھکنڈوں سے بچنا چاہیئے۔
ابلیس سے بچنے کی تاکید ٭٭…
تمام انسانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ ہوشیار کر رہا ہے کہ دیکھو ابلیس کی مکاریوں سے بچتے رہنا، وہ تمہارا بڑا ہی دشمن ہے۔ دیکھو!