قُلْ
لَّاۤ
اَمْلِكُ
لِنَفْسِیْ
نَفْعًا
وَّلَا
ضَرًّا
اِلَّا
مَا
شَآءَ
اللّٰهُ ؕ
وَلَوْ
كُنْتُ
اَعْلَمُ
الْغَیْبَ
لَاسْتَكْثَرْتُ
مِنَ
الْخَیْرِ ۛۖۚ
وَمَا
مَسَّنِیَ
السُّوْٓءُ ۛۚ
اِنْ
اَنَا
اِلَّا
نَذِیْرٌ
وَّبَشِیْرٌ
لِّقَوْمٍ
یُّؤْمِنُوْنَ
۟۠
کہہ دیجیے کہ مجھے کوئی اختیار نہیں ہے اپنی جان کے بارے میں بھی کسی نفع کا اور نہ کسی نقصان کا سوائے اس کے جو اللہ چاہے نہیں ہوں میں مگر بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا ان لوگوں کے لیے جو ایمان والے ہوں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب نہیں تھا ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ آپ تمام کام اللہ کے سپرد کریں اور صاف کہہ دیں کہ غیب کی کسی بات کا مجھے علم نہیں، میں تو صرف وہ جانتا ہوں جو اللہ تعالیٰ مجھے معلوم کرا دے۔
جیسے سورۃ الجن میں ہے کہ «عَالِمُ الْغَيْبِ فَ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب نہیں تھا ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ آپ تمام کام اللہ کے سپرد کریں اور صاف