وَاِذْ
اَخَذَ
رَبُّكَ
مِنْ
بَنِیْۤ
اٰدَمَ
مِنْ
ظُهُوْرِهِمْ
ذُرِّیَّتَهُمْ
وَاَشْهَدَهُمْ
عَلٰۤی
اَنْفُسِهِمْ ۚ
اَلَسْتُ
بِرَبِّكُمْ ؕ
قَالُوْا
بَلٰی ۛۚ
شَهِدْنَا ۛۚ
اَنْ
تَقُوْلُوْا
یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ
اِنَّا
كُنَّا
عَنْ
هٰذَا
غٰفِلِیْنَ
۟ۙ
اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ ٹھہرایا خود ان کے اوپر کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں انھوں نے کہا ہاں ، ہم اقرار کرتے ہیں یہ اس ليے ہوا کہ کہیں تم قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
ہر روح نے اللہ تعالٰی کو اپنا خالق مانا ٭٭…
اولاد آدم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی نا ممکن ہ
ہر روح نے اللہ تعالٰی کو اپنا خالق مانا ٭٭…
اولاد آدم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات