وَاِذْ
قَالَتْ
اُمَّةٌ
مِّنْهُمْ
لِمَ
تَعِظُوْنَ
قَوْمَا ۙ
للّٰهُ
مُهْلِكُهُمْ
اَوْ
مُعَذِّبُهُمْ
عَذَابًا
شَدِیْدًا ؕ
قَالُوْا
مَعْذِرَةً
اِلٰی
رَبِّكُمْ
وَلَعَلَّهُمْ
یَتَّقُوْنَ
۟
اور انہیں یہ بھی یاد لاؤ کہ جب اُن میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ "تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے " تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ "ہم یہ سب کچھ تمہارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس امید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں"
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اصحاب سبت ٭٭…
جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے، ان کے تین گروہ ہو گئے تھے۔ ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے بہانوں سے مچھلی پکڑنے والا، دوسرا گروہ انہیں روکنے والا اور ان سے بیزاری ظاہر کر کے ان سے الگ ہو جانے والا اور تیسرا گروہ چپ چاپ رہ کر نہ اس کام کو کرنے والا، نہ اس سے روکنے والا۔
جیسا کہ
اصحاب سبت ٭٭…
جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے، ان کے تین گروہ ہو گئے تھے۔ ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے بہانوں سے مچھلی پکڑنے والا، دوسرا گروہ