وَقَطَّعْنٰهُمُ
اثْنَتَیْ
عَشْرَةَ
اَسْبَاطًا
اُمَمًا ؕ
وَاَوْحَیْنَاۤ
اِلٰی
مُوْسٰۤی
اِذِ
اسْتَسْقٰىهُ
قَوْمُهٗۤ
اَنِ
اضْرِبْ
بِّعَصَاكَ
الْحَجَرَ ۚ
فَانْۢبَجَسَتْ
مِنْهُ
اثْنَتَا
عَشْرَةَ
عَیْنًا ؕ
قَدْ
عَلِمَ
كُلُّ
اُنَاسٍ
مَّشْرَبَهُمْ ؕ
وَظَلَّلْنَا
عَلَیْهِمُ
الْغَمَامَ
وَاَنْزَلْنَا
عَلَیْهِمُ
الْمَنَّ
وَالسَّلْوٰی ؕ
كُلُوْا
مِنْ
طَیِّبٰتِ
مَا
رَزَقْنٰكُمْ ؕ
وَمَا
ظَلَمُوْنَا
وَلٰكِنْ
كَانُوْۤا
اَنْفُسَهُمْ
یَظْلِمُوْنَ
۟
) اور ہم نے ان کو علیحدہ علیحدہ کردیا بارہ قبیلوں کی جماعتوں میں اور ہم نے وحی کی موسیٰ ؑ کی طرف جب پانی طلب کیا آپ ؑ سے آپ ؑ کی قوم نے کہ اپنی لاٹھی سے چٹان پر ضرب لگائیے پس اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے تو ہر قبیلے نے جان لیا اپنے اپنے گھاٹ کو اور ہم نے ان کے اوپر بادل کا سائبان بنائے رکھا اور اتارا ہم نے ان پر من اور سلویٰ (اور ان سے کہا کہ) کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں رزق میں دی ہیں اور انہوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ وہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب
یہ سب آیتیں سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہیں اور وہیں ان کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ ہم نے بیان کر دی ہے۔ وہ سورت مدنیہ ہے اور یہ مکیہ ہے۔ ان آیتوں اور ان آیتوں کا فرق بھی مع لطافت کے، ہم نے وہیں ذکر کر دیا ہے۔ دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔
صفحہ نمبر3101
باب…
یہ سب آیتیں سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہیں اور وہیں ان کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ ہم نے بیان کر دی ہے۔ وہ سورت مدنیہ ہے اور یہ مکیہ ہے۔ ان آیتوں اور