وَاتَّخَذَ
قَوْمُ
مُوْسٰی
مِنْ
بَعْدِهٖ
مِنْ
حُلِیِّهِمْ
عِجْلًا
جَسَدًا
لَّهٗ
خُوَارٌ ؕ
اَلَمْ
یَرَوْا
اَنَّهٗ
لَا
یُكَلِّمُهُمْ
وَلَا
یَهْدِیْهِمْ
سَبِیْلًا ۘ
اِتَّخَذُوْهُ
وَكَانُوْا
ظٰلِمِیْنَ
۟
اور موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنایا ایک دھڑ جس سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے اور نہ کوئی راہ دکھاتا ہے اس کو انھوں نے معبود بنالیا اور وہ بڑے ظالم تھے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
بنی اسرائیل کا بچھڑے کو پوجنا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام تو اللہ کے وعدے کے مطابق تورات لینے گئے، ادھر فرعونیوں کے جو زیور بنی اسرائیل کے پاس رہ گئے تھے، سامری نے انہیں جمع کیا اور اپنے پاس سے اس میں خاک کی مٹھی ڈال دی جو جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کی ٹاپ تلے سے اس نے اٹھالی تھی۔ اللہ کی قدرت سے وہ سونا
بنی اسرائیل کا بچھڑے کو پوجنا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام تو اللہ کے وعدے کے مطابق تورات لینے گئے، ادھر فرعونیوں کے جو زیور بنی اسرائیل کے پاس رہ گئے تھے، سام