قَالَ
یٰمُوْسٰۤی
اِنِّی
اصْطَفَیْتُكَ
عَلَی
النَّاسِ
بِرِسٰلٰتِیْ
وَبِكَلَامِیْ ۖؗ
فَخُذْ
مَاۤ
اٰتَیْتُكَ
وَكُنْ
مِّنَ
الشّٰكِرِیْنَ
۟
Farmaya “Aey Moosa , maine tamaam logon par tarjeeh dekar tujhey muntakhab kiya ke meri paigambari karey aur mujhse hum-kalaam ho, pas jo kuch main tujhey doon usey le aur shukar baja laa”
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
انبیاء کی فضیلت پر ایک تبصرہ ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری فرماتا ہے کہ دوہری نعمت آپ کو عطا ہوئی یعنی رسالت اور ہم کلامی۔ مگر چونکہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام اول و آخر نبیوں کے سردار ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسالت ختم کرنے والا آپ کو بنایا کہ قیامت تک آپ ہی کی شریعت جاری رہے گی
انبیاء کی فضیلت پر ایک تبصرہ ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری فرماتا ہے کہ دوہری نعمت آپ کو عطا ہوئی یعنی رسالت اور ہم کلامی۔ مگر چونکہ ہمارے نبی محمد