الأعراف 7:129 قالوا اوذينا من قبل ان تاتينا ومن بعد ما جيتنا قال عسى ربكم ان يهلك عدوكم ويستخلفكم في الارض فينظر كيف تعملون ١٢٩
قَالُوْۤا
اُوْذِیْنَا
مِنْ
قَبْلِ
اَنْ
تَاْتِیَنَا
وَمِنْ
بَعْدِ
مَا
جِئْتَنَا ؕ
قَالَ
عَسٰی
رَبُّكُمْ
اَنْ
یُّهْلِكَ
عَدُوَّكُمْ
وَیَسْتَخْلِفَكُمْ
فِی
الْاَرْضِ
فَیَنْظُرَ
كَیْفَ
تَعْمَلُوْنَ
۟۠
موسیٰ کی قوم نے کہا، ہم تمھارے آنے سے پہلے بھی ستائے گئے اور تمھارے آنے کے بعد بھی موسیٰ نے کہا قریب ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور بجائے ان کے تم کو اس سرزمین کا مالک بنادے، پھر دیکھے کہ تم کیسا عمل کرتے ہو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
آخری حربہ بغاوت کا الزام ٭٭…
فرعون اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے گانٹھے، ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے۔ کہنے لگے: یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں۔ بغاوت پھیلا دیں گے، ملک میں بد امنی پیدا کریں گے۔ ان کا ضرور اور جلد کوئی ان
آخری حربہ بغاوت کا الزام ٭٭…
فرعون اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے گانٹھے، ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان