قَالَ
مَا
مَنَعَكَ
اَلَّا
تَسْجُدَ
اِذْ
اَمَرْتُكَ ؕ
قَالَ
اَنَا
خَیْرٌ
مِّنْهُ ۚ
خَلَقْتَنِیْ
مِنْ
نَّارٍ
وَّخَلَقْتَهٗ
مِنْ
طِیْنٍ
۟
خدا نے کہا کہ تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا، جب کہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا ابلیس نے کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھ کو آگ سے بنایا ہے اور آدم کو مٹی سے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
عذر گناہ بدتر از گناہ ٭٭…
«أَلَّا تَسْجُدَ» «لَا» بقول بعض نحویوں کے زائد ہے اور بعض کے نزدیک انکار کی تاکید کے لئے ہے۔ جیسے کہ شاعر کے قول «مَا اِنْ رَاَیْتُ وَلَا سَمِعْتُ بِمِثْلِہِ» میں «ما» نافیہ پر «اِن» نفی کے لیے صرف تاکیداً داخل ہوا ہے۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ پہلے «لَمْ يَكُنْ مِن
عذر گناہ بدتر از گناہ ٭٭…
«أَلَّا تَسْجُدَ» «لَا» بقول بعض نحویوں کے زائد ہے اور بعض کے نزدیک انکار کی تاکید کے لئے ہے۔ جیسے کہ شاعر کے قول «مَا ا